کلام محمود مع فرہنگ — Page 68
سخت ڈرتا ہوں میں اظہار محبت کرتے پہلے اس شوخ سے میں عہد نا لوں تو کہوں وہ خفا ہیں کہ بلا پوچھے چلا آیا کیوں یاں یہ ہے فکر کوئی بات بنا لوں تو کہوں تیرے یوسف کا مجھے خوب پتا ہے اے دل کوئی دن اور کنوئیں تجھ کو جھٹکا لوں تو کہوں دل نہیں ہے یہ تو لعلِ دہنِ افعی ہے دل کو اس زُلف سیہ سے جو چھڑا لوں تو کہوں چہرہ دکھلا دے مجھے صدقے میں ان آنکھوں کے دامَن اُن کا کبھی آنکھوں سے لگائوں تو کہوں جان جائے گی پہ چھوٹے گا نہ دائن تیرا پتے تلسی کے ہیں دو چار چبا لوں تو کہوں يا الھی تیری الفت میں ہوا ہوں مجنوں خواب میں ہی کبھی میں تجھ کو جو پائوں تو کہوں اخبار بدر جلد 8 - 11 مارچ 1909 ء 68 80