کلام محمود مع فرہنگ — Page 67
26 قصہ ہجر ذرا ہوش میں آئوں تو کہوں بات لمبی ہے یہ سر پیر جو پائوں تو کہوں عشق میں اک گل نازک کے ہوا ہوں مجنوں دھجیاں جامہ تن کی میں اڑائوں تو کہوں حال دل کہنے نہیں دیتی یہ بے تابی دل آؤ سینہ سے تمھیں اپنے لگا لوں تو کہوں لگائوں حال یوں اُن سے کہوں جس سے وہ بے خود ہو جائیں کوئی چبھتی ہوئی میں بات بنائوں تو کہوں شرم آتی ہے یہ کہتے کہ نہیں ملتا تو تیری تصویر کو میں دل سے مٹانوں تو کہوں وہ مزہ ہے غم دلبر میں کہ میں کہتا ہوں رنج فرقت کوئی دن اور اٹھائوں تو کہوں راز داں اس کی شکایت ہو اسی کے آگے اس کی تصویر کو آنکھوں سے ہٹائوں تو کہوں 67