کلام محمود مع فرہنگ — Page 25
9 گناہ گاروں کے دردِ دل کی بس اک قرآن ہی دوا ہے یہی ہے خضر دو طریقت یہی ہے ساھر جو حق نما ہے ہر اک مخالف کے زور و طاقت کو توڑنے کا یہی ہے حزبہ یہی ہے تلوار جس سے ہر ایک دیں کا بدخواہ کانپتا ہے تمام دنیا میں تھا اندھیرا کیا تھا ظلمت نے یاں بسیرا ہوا ہے جس سے جہان روشن وہ معرفت کا ہی دیا ہے نگاہ جن کی زمین پر تھی نہ آسماں کی جنہیں خبر تھی خُدا سے اُن کو بھی جا ہلایا دکھائی ایسی روھدی ہے بھٹکتے پھرتے ہیں راہ سے جو ، اُنھیں یہ ہے یار سے ملاتا جواں کے واسطے یہ خضر کرہ ہے تو پیر کے واسطے عصا ہے مصیبتوں سے نکالتا ہے ، بلاؤں کو سر سے ٹالتا ہے گلے کا تعویذ اسے بناؤ، ہمیں یہی حکم مصطفے ہے 25