کلام محمود مع فرہنگ — Page 24
و ہمیں ہے اسی وقت ہادی کی حاجت ہی وقت رک کر نہنا چاہتا ہے یہ ہے دوسری بات مانو نہ مانو مگر حق تو یہ ہے کہ وہ آگیا ہے اُٹھو اس کی انداد کے واسطے تم حمیت کا یارو ہی مقتضا ہے اٹھو دیکھو اسلام کے دن پھرے ہیں کہ نائب محمد کا پیدا ہوا ہے محبت سے کہتا ہے وہ تم کو ہر دم اُٹھو سونے والو کہ وقت آگیا ہے دم و غم اگر ہو کسی کو تو آئے وہ میداں میں ہر اک کو لکارتا ہے ہر اک دشمن دیں کو ہے وہ بلاتا کہ آؤ اگر تم میں کچھ بھی حیا ہے اگر حیا مقابل میں اس کے اگر کوئی آئے نہ آگے بچے گا نہ اب تک بچا ہے مسیحا و مهدی دوران آخر وہ جس کے تھے تم منتظر آگیا ہے تم قدم اس کے ہیں شرک کے سر کے اوپر حکم ہر طرف اس کا لہرا رہا ہے خُدا ایک ہے اُس کا ثانی نہیں ہے کوئی اس کا ہمسر بنانا خطا ہے نہ باقی رہے شرک کا نام تک بھی خُدا سے یہ محمود میری دُعا ہے 24 24 * 1906 اخبار بدر جلد 5 14 اکتوبر