کلام محمود مع فرہنگ — Page 390
وقت کیا کریں گے جو اس وقت محتاج ہے اس کی دستگیری کرو اور آئندہ ضروریات کو خدا پر چھوڑ دو۔حُسن اس کا نہیں گھلتا تمہیں یہ یاد رہے دوش مسلم پر اگر چادر احرام نہ ہو حج ایک نہایت ضروری فرض ہے نئی تعلیم کے دلدادہ اس کی طرف سے بہت غافل ہیں حالانکہ اسلام کی ترقی کے اسباب میں سے یہ ایک بڑا سبب ہے۔طاقت حج سے یہ مراد نہیں کہ کروڑوں روپیہ پاس ہو۔ایک معمولی حیثیت کا آدمی بھی اگر اخلاص سے کام لے تو جج کے سامان مہیا کر سکتا ہے۔عادت ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں دل میں ہو عشق صنم لب پہ مگر نام نہ ہو نماز کے علاوہ ایک جگہ بیٹھ کر تسبیح و تحمید و تکبیر کرنا یا کاموں سے فراغت کے وقت تسبیح وتحمید تکبیر کرنا دل کو روشن کر دیتا ہے۔اس میں آج کل لوگ بہت سستی کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روحانی صفائی بھی حاصل نہیں ہوتی۔نمازوں کے پہلے یا بعد اس کا خاص موقع ہے۔عقل کو دین پر حاکم نہ بناؤ ہرگز یہ تو خود آندھی ہے گر نیز الہام نہ ہو ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ مذہب کو سچا سمجھ کر مانے یوں ہی اگر سچے دین کو بھی مان لیا جائے تو کچھ فائدہ نہیں لیکن جب پوری طرح یقین کر کے ایک بات کو مانا جائے تو پھر کسی کا حق نہیں کہ اس کی تفصیلات اگر اس کی عقل کے مطابق نہ ہوں تو ان پر محبت کرے، روحانیات کا سلسلہ تو خدا تعالے کی طرف سے قائم ہے بس عقل اور مذہب کا مقابلہ نہیں بلکہ عقل کو مذہب پر حاکم بنانے سے یہ مطلب ہو گا کہ آیا ہماری معقل زیادہ معتبر ہے یا خدا تعالیٰ کا علم۔نعوذ باللہ من ذالک۔ہاں یہ بات دریافت کرنی بھی ضروری ہے کہ جس چیز کو ہم مذہب کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ مذہب کا حصہ ہے بھی یا نہیں۔383