کلام محمود مع فرہنگ — Page 389
اس زمانہ کا اثر اس قسم کا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز ونیاز کرنے کو بھی وضع کے خلاف سمجھتے ہیں اور خدا کے حضور میں ماتھے کا خاک آلود ہوتا نہیں ذلت معلوم ہوتا ہے حالانکہ اس کے حضور میں تذل ہی اصل عزت ہے۔خیر اندیشی احباب رہے مد نظر عیب چینی نہ کرو مفید و نام نہ ہو چھوڑ دو حرص کرو زہد و قناعت پیدا کر نہ محبوب بنے سیم دل آرام نہ ہو اس زمانہ میں مادی ترقی کے اثر سے روپے کی محبت بہت بڑھ گئی ہے اور لوگوں کو ہر ایک معاملہ میں روپے کا خیال زیادہ رہتا ہے۔روپے کمانا برا نہیں لیکن اس کی محبت خدا تعالیٰ کی محبت کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتی۔جو شخص رات دن اپنی تنخواہ کی زیادتی اور آمد کی ترقی کی فکر میں لگا رہتا ہے اس کو خدا تعالے کے قرب کے حاصل کرنے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کا موقع کب مل سکتا ہے۔مومن کا دل قالع ہونا چاہیے۔ایک حد تک کوشش کرے پھر جو کچھ ملتا ہے اس پر خوش ہو کہ خدا تعالیٰ کی نعمت کی قدر کرے۔اس بڑھی ہوئی حرص کا نتیجہ اب یہ نکل رہا ہے کہ لوگ خدمت دین کی طرف بھی پوری توجہ نہیں کر سکتے اور دینی کاموں کے متعلق بھی ان کا یہی سوال رہتا ہے کہ ہمیں کیا ملے گا اور مقابلہ کرتے رہتے ہیں کہ اگر فلاں دنیا کا کام کریں تو یہ ملتا ہے اس دینی کام پر یہ ملتا ہے ہمارا کس میں فائدہ ہے۔گویا وہ دینی کام کسی کا ذاتی کام ہے جس کے بدلہ میں یہ معاوضہ کے خواہاں ہیں۔حالانکہ وہ کام ان کا بھی کام ہے اور جو کچھ ان کو مل جاتا ہے وہ اللہ تعالے کے فضلوں میں سے ہے۔اور اس مال کی محبت کا ہی نتیجہ ہے کہ دنیا کا ان اُٹھ رہا ہے۔ضروریات ایسی شے ہیں کہ ان کو جس قدر بڑھاؤ بڑھتی جاتی ہیں۔پس قناعت کی حد بندی توڑ کر پھر کوئی جگہ نہیں رہتی جہاں انسان قدم لگا سکے۔کروڑوں کے مالک بھی تنگی کے شاکی نظر آتے ہیں۔جس کے ہاتھ سے قناعت گئی اور مال کی محبت اس کے دل میں پیدا ہوئی وہ خود بھی دُکھ میں رہتا ہے اور دوسروں کو بھی دُکھ دیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے تو اس کا تعلق ہو ہی نہیں سکتا۔رغبت دل سے ہو پابند نماز و روزہ نظر انداز کوئی حصہ احکام نہ ہو ہو پاس ہو مال تو دو اس سے زکوۃ وصدقہ فکر من کہیں رہے تم کو غم ایام نہ ہو فکر مشکلی اسے یعنی یہ غم نہ ہو کہ اگر مغرب کی مدد کریں گے تو ہمارا روسیہ کم ہو جائے گا میر ضرورت کے