کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 373

انے مسیحا کبھی پوچھو گے بھی بیمار کا حال کون ہے جس سے کہے جاکے دل زار کا حال آنکھ کا کام نکل سکتا ہے کب کانوں سے دل کے اندھوں سے کہوں کیا تیرے دیار کا حال اخبار الفضل 31 دسمبر 1968 ء اندارا 1938 یا 1939ء رہے حسرتوں کا پیارے میری جاں شکار کب تک ؟ تیرے دیکھنے کو ترسے دل بے قرار کب تک؟ شب ہجر ختم ہو گی کہ نہ ہو گی یا الہی! مجھے اتنا تو بتا دے کروں انتظار کب تک؟ کبھی پوچھو گے بھی آکر کہ بتا تو حال کیا ہے یوں ہی خوں بہائے جائے دلِ داغدار کب تک؟ اخبار الفضل 31 دسمبر 1968 ء اندازاً 1938-1939ء گل ہیں پر ان میں پہلی سی آب بُو نہیں رہی صوفی تو مل ہی جاتے ہیں پر ھو نہیں رہی مغرب کا ہے پھونا تو مغرب کا اوڑھنا اسلام کی تو کوئی بھی آب تو نہیں رہی از رساله ریویو آف امیجیز اردو ماہ جولائی 1944 و 368