کلام محمود مع فرہنگ — Page 345
تری یہ عاجزی بالا ہے سب دُنیا کی بہت سے تجھے کیا کام ہے دنیا کی رفعت اور شوکت سے ترا دشمن بڑائی چاہتا ہے گر شرارت سے تو اس کا توڑدے مُنہ تُو محبت سے مُروت سے ملا ہے علم سے مجھ کو نہ کچھ اپنی لیاقت سے ملا ہے مجھ کو جو کچھ بھی سو مولی کی عنایت سے بسر کر عمر تو اپنی نہ سو سو کر نہ غفلت سے کہ ملتی ہے ہر اک عورت اطاعت سے عبادت سے گئی ابلیس کی تدبیر ضائع سب بہ فَضْلِ الله ملی ہے آدم و حوا کو جنت حق کی رحمت سے کلیم اللہ کے پیرو بنے ہیں پیر و شیطان دکھایا سامری نے کیا تماشا اپنی محبت سے جنھوں نے پائی ہے اللہ کی کوئی شریت بھی اُنھیں تو ٹھیک کر سکتا نہیں، پر حق و حکمت سے 341