کلام محمود مع فرہنگ — Page 344
188 ہوئی کے آدم و حوا کی منزل اُنس و قربت سے مگر ابلیس اندھا تھا کہ چھٹا حق کی لعنت سے خُدا کا قرب پائے گا نہ راحث سے نہ غفلت سے یہ درجہ گر ملے گا تو فقط ایثار و محنت سے الہی تو بچالے سب مسلمانوں کو ذلت سے کہ جو کچھ کر رہے ہیں کر رہے ہیں وہ جہالت سے عزیزو ! دل رہیں آباد بس اس کی محبت سے نو زاہدہ کرو الفت نہ ہرگز مال و دولت سے خُدا سے پیار کر دل سے اگر رہنا ہو عزت سے که ابراہیم کی بعربت تھی سب مولی کی خُلت سے اگر رہنا ہو راحت سے تو رہ کامل قناعت سے کبھی بھی تر نہ ہو تیری زباں حرف تکایت سے تعلق کوئی بھی رکھنا نہ تم بغض وعداوت سے کہ مومن کو ترقی ملتی ہے مہر و محبت سے 340