کلام محمود مع فرہنگ — Page 342
مجھ سے کھویا ہوا ایک ان مسلماں پالیں ہوں تو سفلی پر مجھے آپ ثریا کر دیں کردیں لوگ بے تاب ہیں بے حد کہ نمونہ دیکھیں سایک رن کے لیے مجھے کو نمونہ کر دیں حد مقصد خلق پر آئے گا یہی تو ہوگا اندھی دنیا کو اگر فضل سے بنا کر دیں منتیں آپ کو سختی نہیں میرے پیارے پڑے سب چاک کریں چہرہ گونگا کر دیں اپنے ہاتھوں سے ہوئی ہے میری بحث بر یاد میری بیماری کا اب آپ مداوا کر دیں بار آور ہو جو ایسا کہ جہاں بھر کھائے دل میں میرے وہ شجر خیر کا پیدا کر دیں یں تہی دست ہوں رکھتا نہیں کچھ اس عمل جو نہیں پاس میرے آپ مہیا کر دیں لے مراد مسلمان ہیں نے ابراہیم علیہ السلام اخبار الفضل جلد 11 - 6 فروری 1957ء ربوہ پاکستان 338