کلام محمود مع فرہنگ — Page 326
179 ہے تاروں کی دنیا بہت دُور ہم سے ہم ان سے ہیں اور وہ ہیں مہنجو رہم سے خدا جانے ان کو ہے آزادی حاصل کہ ہیں وہ بھی معذور و مجبور ہم سے زمانہ کو حاصل ہو نور نبوت جو سیکھے قوانین و دستور ہم سے خدا جانے دونوں میں کیا رس بھرا ہے ہم ان سے ہیں اور وہ ہیں مخمور ہم سے دُہ ہم ان سے نگاہیں لڑائیں گے پیم وہ باتیں کریں گے سر طور ہم سے ادھر ہم بضد ہیں اُدھر دل بضد ہے ہم اس سے ہیں اور وہ ہے مجبور ہم سے رقیبوں سے بھی چھیڑ جاری رہے گی تعلق رہے گا بدستور ہم سے دلِ دوستاں کو نہ توڑیں گے ہرگز نہ ٹوٹے گا ہر گز یہ پور ہم سے ہم دھرا ہم پہ بارِ شریعت تو پھر کیوں فرشتوں پر ظاہر ہو مستور ہم سے ہوئن مبارک ہو یہ ڈارون کو ہی رشتہ قرابت نہیں رکھتے کنگور ہم سے (ناصر آباد سندھ) 324 اخبار الفضل جلد 3 لاہور پاکستان 21 اکتوبر 1954 ء