کلام محمود مع فرہنگ — Page 313
168 عاشقوں کا شوق قربانی تو دیکھ خُون کی اس رہ میں ارزانی تو دیکھ بڑھ رہا ہے حد سے کیوں تقریر میں ہوش کر کچھ اُن کی پیشانی تو دیکھ رہا طَعْنِ لفن پاکان شغل صبح و شام ہے مولوی صاحب کی کستانی تو دیکھ صدیوں اس نے ہے ترا پہرہ دیا اس نگہباں کی نگہبانی تو دیکھ وعظ قرآن پر کبھی تو کان دھر علم کی اس میں فراوانی تو دیکھ شکوہ قسمت کے چکر میں نہ پھنس اپنی غفلت اور نادانی تو دیکھ خورده گیری آسماں کی چھوڑ بھی ابن آدم ! اپنی عریانی تو دیکھ اپنے دل تک سے ہے انساں بے خبر پھر یہ دعوائے ہمہ دانی تو دیکھ فرش سے جا کر کیا دم عرش پر مصطفے کی سیر روحانی تو دیکھ جاکر ابر رحمت پر تعجب کیس لیے کفر کی دُنیا میں طغیانی تو دیکھ دامن رحمت وہ پھیلائے نہ کیوں مومنوں کی تنگ دامانی تو دیکھ نہ آسماں سے کیوں نہ اتریں اب ملک کفر کی افواج طوفانی تو دیکھ آپ نہ باندھیں گے تو کب باندھ میں گئے بند کفر کا بڑھتا ہوا پانی تو دیکھ کُفر کے چشمے سے کیا نسبت اسے میرے چشمہ کا ذرا پانی تو دیکھ ہے اکیلا کفر سے زور آزما احمدی کی روج ایسانی تو دیکھ اخبار الفضل جلد 6 لاہور پاکستان 1 جنوری 1952 ء 311