کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 280

141 یہ دل دے کے ہم نے ان کی محبت کو پالیا بے کار چیز دے کے دُر بے بہا لیا میں مانگنے گیا تھا کوئی ان کی یاد گار لیکن وہاں اُنھوں نے میرا دل اُڑا لیا کہتے ہیں لوگ کھاتے ہیں ہم صبح و شام غم ہم ان سے کیا کہیں کہ ہمیں غم نے کھا لیا غم گر کر گڑھے میں عریش کے پائے کو جا چھوا کھوئے گئے جہاں سے مگر اُن کو پا لیا نکلا تھا ئیں کہ بوجھ اُٹھاؤں گا ان کا ئیں لیکن اُنھوں نے گود میں مجھ کو اٹھا لیا بھاگا تھا اُن کو چھوڑ کے یونٹس کی طرح ہیں لیکن انھوں نے بھاگ کے پیچھے سے آ لیا ہنتے ہی ہفتے روٹھ گئے تھے وہ ایک دن ہم نے بھی روٹھ رُوٹھ کے ان کو منا لیا جا جا کے اُن کے در یہ تھکے پاؤں جب سے وہ چال کی کہ اُن کو ہی دل میں بسا لیا یہ دیکھ کر کہ دل کو لیے جارہے ہیں وہ میں نے بھی اُن کے حُسن کا نقشہ اُڑا لیا ناراضگی سے آپ کی آئی ہے کب پر جان اب تھوک دیجے غصہ بہت کچھ ستا لیا کیا دام عشق سے کبھی نکلا ہے قید بھی کیا بات تھی کہ آپ نے عہد وفا لیا نقصاں اگر ہوا تو فقط آپ کا ہوا دل کوستا کے اے میرے دلدار کیا لیا میں صاف دل ہوں مجھ سے خطاب بھی وہی آب خجال سے میں اُسی دم نہا لیا ہونے دی اُن کی بات نہ ظاہر کرسی پربھی جو زخم بھی لگا اُسے دل میں چھپا لیا عشق و وفا کا کام نہیں نالہ و نال بھر آیا دل تو بچے سے آنسو بہا لیا اخبار الفضل جلد 2 لاہور پاکستان 28 دسمبر 1948 ء 278