کلام محمود مع فرہنگ — Page 279
140 وہ آئے سامنے منہ پر کوئی نقاب نہ تھا یہ انقلاب کوئی کم تو انقلاب نہ تھا میرے ہی پاؤں اُٹھائے نہ اُٹھ سکے افسوس اُنھیں تو سامنے آتے ہیں کچھ حجاب نہ تھا تھا یادگار تری کیوں ہٹا دیا اس کو میرا یہ درد محبت کوئی عذاب نہ تھا جو دل پہ ہجرمیں گرمی بتاؤں کیا پیارے مذاب تھا وہ مرے دل کا اضطراب نہ تھا ہوئے نہ انجمن آرا اگر تو کیا کرتے کہ ان کے حُسن کا کوئی بھی تو جواب نہ تھا بگا رہے تھے اِشاروں سے بار بار مجھے مُراد میں ہی تھا مجھ سے مگر خطاب نہ تھا د فور حسن سے آنکھیں جہاں کی خیرہ تھیں نظر نہ آتے تھے منہ پر کوئی نقاب نہ تھا عطائیں ان کی بھی بے انتہا تھیں مجھ پہ مگر مطالبوں کا مرے بھی کوئی حساب نہ تھا چھڑک دیا جو فضاؤں پر کفو کا پانی وہ کونسا تھا بدن جو کہ آب آب نہ تھا بس ایک ٹھیس سے ہی پھٹ کے رہ گیا اے شیخ! یہ کیا ہوا ترا دل تھا کوئی حباب نہ تھا ضیاء مہر ہے ادنی سی اک جھنگ اُس کی نہ جس کو دیکھ سکا میں وہ آفتاب نہ تھا جو پورا کرتے اُسے آپ کیا خرابی تھی ؟ مرا خیال کوئی بو نموش کا خواب نہ تھا اخبار الفضل مجلد 2 لاہور پاکستان 13 نومبر 1948 ء 277