کلام محمود مع فرہنگ — Page 277
138 عاشق تو وہ ہے جو کہ کہے اور سُنے تری دُنیا سے آنکھ پھیر کے مرضی کرے تری جو کام تجھ سے لینا تھا وہ کام لے چکے پر واہ رہ گئی ہے یہاں اب کیسے تیری امید کامیابی و شغل سرود ورقص یہ بیل چڑھ سکے گی نہ ہرگز منڈھے تیری ہو روج عشق تیری میرے دل میں جاگزیں تصویر میری آنکھ میں آکر بسے تری مٹ جائے میرا نام تو اس میں حرج نہیں قائم جہاں میں عزت و شوکت ہے تری میدان میں شیر نر کی طرح لڑکے جان دے گردن کبھی نہ غیر کے آگے مجھے تیری دل مانگ جان کانگ کے عُذر ہے یہاں منظور ہے ہمیشہ سے خاطر مجھے تیری نکلے گی وصل کی کوئی صورت کبھی ضرور چاہت تجھے میری ہے تو چاہت مجھے تیری یکتا ہے تو تو میں بھی ہوں اک منظر د وجود میرے سوا ہے آج محبت کیسے ترمی 275 اخبار الفضل مجلد 2 لاہور پاکستان 31 جولائی 1948