کلام محمود مع فرہنگ — Page 276
137 آنکھوں میں وہ ہماری رہے ابتدا یہ ہے ہم اس کے دل میں بسنے لگیں انتہا یہ ہے روزہ نماز میں کبھی کٹتی تھی زندگی اب تم خدا کو بھول گئے ، انتہا یہ ہے لاکھوں خطائیں کر کے جو جھکتا ہوں اُس طرف پھیلا کے ہاتھ ملتے ہیں مجھ سے وفا یہ ہے راتوں کو آکے دیتا ہے مجھ کو تسکیاں مُردہ خُدا کو کیا کروں میرا خُدا یہ ہے کیا حرج ہے جو ہم کو پہنچ جائے کوئی شکر پہنچے کسی کو ہم سے اگر شہر بڑا یہ ہے اس کی وفا و مہر میں کوئی کمی نہیں تم اس کو چھوڑ بیٹھے ہو ظلم و جفا یہ ہے مارے جلائے کچھ بھی کرے مجھ کو اس سے کیا مخلیش میں اُس کے پاس ہوں مدعا یہ ہے بُوٹے چمن اُڑائے پھرے جو ، وہ کیا صبا لائی ہے بُوئے دوست اُڑا کر صبا یہ ہے 274 اخبار الفضل جلد 2 لاہور پاکستان 28 جولائی 1948 ء