کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 6

اُن پہ ڈالی گئی آخر کو تلطف کی نظر میں کا فور اڈا دل سے جو تھا خوف وخطر یک قلم من سے موقوف ہوئے شورش و شر نہ تو رنتزین کا رہا کھٹکا نہ چوروں کا ڈر بھائے رکھے گئے واں مرہم کا فوری کے دیے جاتے تھے جہاں زخم جگر کے چور کے قوم انگلش نے دیا آکے سہارا ہم کو بحجر افکار کے ہے پار اُتارا ہم کو ورنہ صدموں نے تو تھا جان سے مارا ہم کو آگے مشکل تھا بہت کرنا گوارا ہم کو پسند کی ڈوبی ہوئی گشتی ترائی اُس نے ملک کی بگڑی ہوئی بات بنائی اُس نے رحم وہ ہم پر کئے جن کی نہیں کچھ گنتی جن میں سے ایسے بڑی مذہبی ہے آزادی ساتھ لائے یہ ہزاروں نئی ایجادیں بھی جو نہ کانوں تھیں سنی اور نہ آنکھوں دیکھی عدل وانصاف میں وہ نام کیا ہے پیدا آج ہر ملک میں جس کا کہ سجا ہے ڈیکا شیرو بکری بھی ہیں اک گھاٹ پہ پانی پیتے نہیں ممکن کہ کوئی ترچھی نظر سے دیکھے ایک ہی جا پہ ہیں سب رہتے مجھسے اور کھلے کیا مجال اُن سے کسی کو بھی جو صدمہ پہنچے CO