کلام محمود مع فرہنگ — Page 275
136 چھوڑ کر چل دئے میدان کو دو باتوں سے مرد بھی چھوڑتے ہیں دل کبھی ان باتوں سے میں دل و جاں بخوشی اُن کی نذر کر دیتا ماننے والے اگر ہوتے وہ سوغاتوں سے دن بھی چڑھتا نہیں قسمت کا میری اسے افسوس منتظر ہوں تیری آمد کا کئی راتوں سے رنگ آجاتا ہے الفت کا نگا ہوں میں تیری دور نہ کیا کام تھے رندوں کا برساتوں سے میرا مقدور کہاں شکوہ کروں اُن کے حضور مجھے کو رت ہی کہاں ان کی مناجاتوں سے کامیابی کی تہمت ہے تو کر کوہ کئی یہ پری شیشے میں اتری ہے کہیں باتوں سے بار مل جاتا ہے مجلس میں کسی کی دوپہر دن ہوئے جاتے ہیں روشن میرے اب راتوں سے ناز سے غمزہ سے عشوہ سے فسوں سازی سے لے گئے دل کو اڑا کر مے کن گھاتوں سے کبھی گریہ ہے کبھی آہ و فغاں ہے اے دل تنگ آیا ہوں بہت میں ترمی ان باتوں سے تو میری جاں کی غذا ہے میرے دل کی راحت پیٹ بھرتا ہی نہیں تیری ملاقاتوں سے 273 اخبار الفضل جلد 2 لاہور پاکستان 25 جولائی 1948 ء