کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 257

124 درد نہاں کا حال کسی کو سُنائیں کیا طوفان اُٹھ رہا ہے جو دل میں بتائیں کیا کچھ لوگ کھا رہے ہیں غم قوم صبح و شام کچھ صبح وشام سو چتے رہتے ہیں کھائیں کیا جس پیار کی نگہ سے نہیں دیکھتا ہے وہ اُس پیار کی نگاہ سے کہیں گی مائیں کیا جام شراب و ساز طرب رقص پر فروش دنیا میں دیکھتا ہوں میں یہ دائیں بائیں کیا دیا ہے ایک زالِ عمر خورده و ضعیف اس زالِ دشت دو سے بھلا دل لگا میں کیا دان تہی ہے ، فکر مشوش ، نگہ غلط آئیں تو تیرے در پہ مگر ساتھ لائیں کیا حرص و ہوا و کبر و تغلب کی خواہشات چھٹی ہوئی ہیں دامن دل سے بلائیں کیا و اپنا ہی سب قصور ہے اپنی ہی سب خطا الزام اُن پر ظلم وجفا کا لگا میں کیا 255 اخبار الفضل جلد 1 لاہور پاکستان 28 دسمبر 1947