کلام محمود مع فرہنگ — Page 256
123 اللہ کے پیاروں کو تم کیسے بُرا سمجھے خاک ایسی سمجھ رہے سمجھے بھی تو کیا سمجھے پر شاگرد نے جو پایا اُستاد کی دوکت ہے احمد کو محمد سے تم کیسے جُدا سمجھے جو دشمن کو بھی جو مومن کہتا نہیں وہ باتیں تم اپنے کرم فرما کے حوش میں روا سمجھے جو چال چلے ٹیڑھی جو بات کہی اُلٹی بیماری اگر آئی تم اس کو شفا سمجھے لعنت کو پکڑ بیٹھے انعام سمجھ کر تم حق نے جور دا بھیجی تم اس کو ردی سمجھے کیوں قعر مذلت میں گرتے نہ چلے جاتے تم کوم کے سائے کو جب ظل ہما سمجھے انصاف کی کیا اس سے اُمید کرے کوئی بے داد کو جو ظالم آئینِ وفا سمجھے غفلت تری اے مسلم کب تک چلی جائے گی یا فرض کو تو سمجھے یا تجھ سے خُدا سمجھے 254 اخبار الفضل جلد 34 - 28 دسمبر 1946 ور