کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 223

97 موت اس کی کرہ میں گر تمھیں منظور ہی نہیں کہہ دو کہ عشق کا ہمیں مقدور ہی نہیں کیوں جرم نقض عہد کے ہوں مرتکب جناب جب آپ عہد کرنے پر مجبور ہی نہیں مومن تو جانتے ہی نہیں بزدلی ہے کیا اس قوم میں فرار کا دستور ہی نہیں ڈر کا اثر ہو ان پر نہ لالچ کا ہو اثر ہوش آئیں جن کو ایسے بھنور ہی نہیں دل دے چکے توختم ہوا قصہ حساب معشوق سے حساب کا دستور ہی نہیں بحر فنا میں غوطہ لگانے کی دیر ہے مشران قریب تر ہے وہ کچھ دور ہی نہیں شمن کی چیرہ دستیوں پر اے خدا گواہ ہیں زخم دل بھی سینے کے ناسور ہی نہیں اس مہر نیم روز کو دیکھیں تو کس طرح آنکھوں میں ظالموں کے اگر نور ہی نہیں 221 اخبار الفضل جلد 2-2 دسمبر 1938ء