کلام محمود مع فرہنگ — Page 222
96 میری نہیں زبان جو اُس کی زباں نہیں میرا نہیں وہ دل کہ جو اس کا شکاں نہیں ہے دل میں عشق پر مرے منہ میں زباں نہیں نالے نہیں ہیں آہیں نہیں ہیں، فغاں نہیں فرقت میں تیری حالِ دل زار کیا کہیں وہ آگ لگ رہی ہے کہ جس میں دھواں نہیں قرباں ہوں زنجیر دل پہ کہ سب حال کہہ دیا شکوہ کا حرف کوئی نگر درمیاں نہیں پر کیوں چھوڑتا ہے دل مجھے اُس کی تلاش میں آوارگی سے فائدہ کیا ، وہ کہاں نہیں مطلوب ہے فقط مجھے خوشنودی مزاج اُمید خور و خواہش باغ جناں نہیں جلوہ ہے ذرہ ذرہ میں دلبر کے حُسن کا سارے مکاں اُسی کے ہیں وہ لا مکاں نہیں مشتاق ہے جہاں کہ سُنئے معرفت کی بات لیکن حیا و شرم سے چلتی زباں نہیں یا رب تیری مدد ہو تو اصلاح خلق ہو اُٹھنے کا ورنہ مجھ سے یہ بار گراں نہیں کھویا گیا خود آپ کسی کی تلاش میں کچھ بھی خبر نہیں کہ کہاں ہوں کہاں نہیں اسے دوست تیرا عشق ہی کچھ خام ہو تو ہو یہ تو نہیں کہ یار تیرا مہرباں نہیں ایمان جس کے ساتھ نہ ہو قوت عمل کشتی ہے جس کے ساتھ کوئی بادباں نہیں 220 اخبار الفضل جلد 24-31 دسمبر 1936ء