کلام محمود مع فرہنگ — Page 220
یہ زخم تمھارے سینوں کے بن جائیں گے رشک چمن اس دن ہے قادر مطلق یار مرا ، تم میرے یار کو آنے دو جو سچے مومن بن جاتے ہیں موت بھی اُن سے ڈرتی ہے تم پیچھے مومن بن جاؤ اور خوف کو پاس نہ آنے دو یا صدق محمد عربی ہے یا احمد مہندی کی ہے وفا باقی تو پرانے قصے ہیں زندہ ہیں یہی افسانے دو دہ تم کو حسین بناتے ہیں اور آپ یزیدی بنتے ہیں یہ کیا ہی سنتا سودا ہے دُشمن کو تیر چلانے دو میخانہ وہی ساقی بھی وہی پھر اس میں کہاں غیرت کا مکل ہے دُشمن خود بھیگا جس کو آتے ہیں نظر غم خانے دو محمود اگر منزل ہے گٹھن تو را ن بھی کامل ہے تم اس پہ تو گل کر کے چلو آفات کا خیال ہی جانے دو أخبار الفضل جلد 23-14 جولائی 1935 ء 218