کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 219

94 دشمن کو نظام کی برچھی سے تم سینہ و دل بزمانے دو یہ درد رہے گائن کے دوا تم صبر کر و وقت آنے دو یہ عشق و وفا کے کھیت کبھی خوں سینچے بغیر نہ بنیں گے اس راہ میں جاں کی کیا پروا جاتی ہے اگر تو جانے دو تم دیکھو گے کہ انہی میں سے قطرات محبت ٹپکیں گے بادل آفات و مصائب کے چھاتے ہیں اگر تو چھانے دو صادق ہے اگر تو صدق دکھا قربانی کر ہر خواہش کی 2 ہیں جنسِ وفا کے ماپنے کے دُنیا میں ہی پیمانے دو جب سونا آگ میں پڑتا ہے تو کندن بن کے لکھتا ہے پھر گالیوں سے کیوں ڈرتے ہو دل جلتے ہیں جیل جانے دو عاقل کا یہاں پر کام نہیں وہ لاکھوں بھی بے فائدہ ہیں مقصود مرا پورا ہو اگر مل جائیں مجھے دیوانے دو دہ اپنا سر ہی پھوڑے گا وہ اپنا خون ہی بیٹے گا دشمن حق کے پہاڑ سے گر ٹکراتا ہے ٹکرانے دو 217