کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 216

نغمہ سُن سُن کے اُس کے سب خوش تھے وہ مگر دل فگار بیٹھی تھی لوگ سب شادمان و خوش آئے ایک میں تھا کہ سوگوار آیا کیسی ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں ناز و رعنائی سے مچلتی تھیں اُن کی رفتار کی دلا کر یاد دل مرا چٹکیوں میں مکتی تھیں زخیم دل ہوگئے ہرے میرے ہر حمین سے میں اشکبار آیا تھے طرب سے درخت بھی رقصاں گویا قسمت پر اپنی تھے نازاں کہتے پتے کے پاس جا کہ میں سونگھتا تھا بُوئے مر کنگان لوگ سب شادمان و خوش آئے ایک میں تھا کہ سوگوار آیا جلوے اُس کے نمایاں ہرشے میں سُراُسی کی تھی پیدا ہوئے ہیں کر تنگ اُسی کا چھلک رہا تھا آہ کف ساقی میں ساغر کے میں زخم دل ہوگئے ہرے میرے ہر چمن سے میں اشکبار آیا 214