کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 212

90 وُہ چھلک رہا ہے میرے غم کا آج پیمانہ کسی کی یاد میں میں ہو رہا ہوں دیوانہ زماند گرد را کہ دیکھیں نہیں وہ مست آنکھیں کہ جن کو دیکھ کے میں ہو گیا تھا مستانہ وہ شمع رو کہ جسے دیکھ کر ہزاروں شمع بھڑک اٹھی تھیں بسوز ہزار پروانہ دہ جس کے چہرہ سے ظاہر تھا نور ربانی ملک کو بھی جو بناتا تھا اپنا دیوانہ کہاں ہے کہ ملوں انھیں اس کے ملکوں سے کہاں ہے وہ کہ گروں اس پریشل پروانہ محبتیں کہ نئی زندگی دلاتی تھیں وہ آج میرے لیے کیوں بنی ہیں افسانہ دہ یار جس کی محبت پہ ناز تھا مجھ کو کوئی بتاؤ کہ کیوں ہو رہا ہے بیگانہ جو کوئی روک تھی اس کو یہاں پر آنے کی بلا لیا نہ وہیں کیوں نہ اپنا دیوانہ پہ الیا نہ چھیڑ دشمن ناداں نہ چھیڑ کہتا ہوں چھلک رہا ہے میرے غم کا آج پیمانہ تری نصیحتیں بے کار تیرے مکر فضول یہ چھیڑ جا کے کسی اور جا پہ افسانہ چھڑائے گا بھلا کیا دل سے میرے یاد اس کی تو اور مجھ کو بناتا ہے اس کا دیوانہ نہ تیرے ظلم سے ٹوٹے گا رشتہ الفت نہ حرص مجھ کو بنائے گی اُس سے بیگانہ ہے تیری سعی دلیل حماقت مطلق ہے تیری جدو جہد ایک فعل طفلانہ ترا خیال کدھر ہے یہ سوچ اے ناداں رہا ہے دُور کبھی شمع سے بھی پروانہ حدیث مدرسه و خانقاه مگو بخدا فتاد بر سر حافظ کہوائے میخانہ اخبار الفضل جلد 20 - 1 جنوری 1933ء 210