کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 194

82 یہ خاکسار نابکار دلبرا وہی تو ہے کہ جس کو آپ کہتے تھے ہے با وفا وہی تو ہے جو پہلے دن سے کہہ چکا ہوں مدعا وہی تو ہے میری طلب ہی تو ہے میری دُعا وہی تو ہے جو غیر پر نگہ نہ ڈالے آشنا وہی تو ہے جو خیر کے سوا نہ دیکھے چشم وا وہی تو ہے نکر تھی جس پر رحم کی جو خوشہ چین فضل تھا ولی غلام جاں نثار آپ کا وہی تو ہے یہ بے رخی ہے کس سبب سے میں وہی ہوں جو کہ تھا میرے گند وہی تو ہیں میری خطاؤ ہی تو ہے سزائے عشق ہجر ہے جزائے صبر وصل ہے میری سزا وہی تو ہے میری جزا کو ہی تو ہے نہیں ہیں میرے قلب پر کوئی نئی تجلیاں ھیرا میں تھا جو جلوہ گر میرا خدا وہی تو ہے 192