کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 182

74 ہوتا تھا کبھی کہیں بھی کسی آنکھ کا تارا بتلاتے تھے اک قیمتی دل کا مجھے پارہ دُنیا کی نگہ پڑتی تھی جن ماہ دشوں پر کبھی مجھے رکھتے تھے دل جان سے پیارا ہو جاتی تھی موجود ہر اک نعمت دنیا بس چاہیئے ہوتا تھا میرا ایک اشارہ محبوبوں کا محبوب تھا دلداروں کا دلدار معشوقوں کا معشوق دلاروں کا دلارا تھوڑی سی بھی تکلیف مری اُن پہ گراں تھی کرتے نہ تھے اک کانٹے کا چبھنا بھی گوارا یا آج میرے حال پر روتا ہے فلک بھی سورج کا جگر بھی ہے غم و رنج سے پارا یا غیر بھی آکر میری کرتے تھے خوشامد یا اپنوں نے بھی ذہن سے اپنے ہے اُتارا یا میری ہنسی بھی تھی عبادت میں ہی داخل یا زُہد وتعبد میں بھی پاتا ہوں خسارہ یا کند چھری ہاتھ میں دیتا تھا نہ کوئی یا زخموں سے آب حیم مرا چور ہے سارا یا زانوئے دلدار میرا تکیہ تھا یا آب سر رکھنے کو ملتا نہیں پتھر کا سہارا جو گھنٹوں محبت سے کیا کرتے تھے باتیں اب سامنے آنے سے بھی کرتے ہیں کنارہ جس پر مجھے امید تھی شافع میرا ہو گا اس ساعت عسرت میں ہے اُس نے بھی بسارا ہے منبر جو جاں سوز تو فریاد حیا سوز بے تاب خوشی ہے نہ گویائی کا چارہ قوت تو مجھے چھوڑ چکی ہی تھی کبھی کی اب منیر بھی کیا جانے کدھر کو ہے سدھارا 180