کلام محمود مع فرہنگ — Page 181
تو ہے مقبول الہی بھی تو یہ بات نہ بھول سامنے تیرے کوئی موسی عمران نہ ہو ابن آدم ہے نہ کچھ اور تجھے خیال رہے حد نسیان سے بڑھ کر کہیں عصیان نہ ہو بڑھ تجھ میں ہمت ہے تو کچھ کر کے دکھا دنیا کو اپنے اجداد کے اعمال پر نازان نہ ہو اپنے ہاتھوں سے ہی خود اپنی عمارت نہ گرا مخرب دین نہ بن دشمن ایمان نہ ہو مجود و احسانِ شہنشہ پہ نظر رکھے اپنی جورِ اغیار پر افسرده و نالان نہ ہو اپنے اوقات کو اے نفس حرص و طامع شکر منٹ میں لگا طالب احسان نہ ہو آگ ہو گی تو دھواں اس سے اُٹھے گا محمود غیر ممکن ہے کہ ہو عشق پہ اعلان نہ ہو اخبار الفضل جلد 12-16 جون 1925ء 179