کلام محمود مع فرہنگ — Page 180
73 کون سا دل ہے جو شرمندہ احسان نہ ہو کون سی روح ہے جو خالف و ترسان نہ ہو میرے ہاتھوں سے مبدا یار کا دامان نہ ہو میری آنکھوں سے کام میں کبھی اک آن نہ ہو مُضغہ گوشت ہے دہ دل میں جو ایمان نہ ہو خاک سی خاک ہے وہ ہم میں گر جان نہ ہو اپنی حالت یہ یونہی خرم دشادان نہ ہو یہ سکوں پیش رو آمد طوفان نہ ہو مبتلائے غم و آلام پہ خندان نہ ہو یہ کہیں تیری تباہی کا ہی سامان نہ ہو و پر اپنے اعمال پر سنترا ، ارے نادان نہ ہو تو بھلا چیز ہے کیا اس کا جو انسان نہ ہو نہ ملیں گے ڈیلیں گے بنکلیں گے ہم بھی جب تلک سر بذع د کفر کا میدان نہ ہو رنگ بھی روپ بھی ہوشن بھی ہولیکن پھر فائدہ کیا ہے اگر سیرت انسان نہ ہو نہ سہی جُود یہ وہ کام تو کر تو جس میں غیر کا نفع ہو تیرا کوئی نقصان نہ ہو پہ عشق کا دعوی ہے تو عشق کے آثار دکھا دعوی باطل ہے وہ جس دعوی پر برہان نہ ہو مرحبا بو خشتِ دل تیرے سبب سے یہ ثنا میں تھسے پاس ہوں منگشته و حیران نہ ہو بادہ نوشی میں کوئی لطف نہیں ہے جب تک صحبت یار نہ ہو مجلس رندان نہ ہو بلبل زار تو مر جائے تڑپ کر فوراً گرگل تازہ نہ ہو بُوئے گلستان نہ ہو تیری خدمت میں سی سے عرض بصد عجز و نیاز قبضہ غیر میں اسے جان مری جان نہ ہو ہی 178