کلام محمود مع فرہنگ — Page 179
72 یار و بسیج وقت کہ تھی جن کی انتظار رہ سکتے تکتے جن کی کروڑوں ہی مر گئے آئے بھی اور آ کے چلے بھی گئے وہ آہ ! ایام سند اُن کے بسرعت گزر گئے آمد تھی اُن کی یا کہ خدا کا نزول تھا صدیوں کا کام تھوڑے سے نہیں کر گئے کر وہ پیڑ ہو رہے تھے جوہر سے چوب خشک پڑھتے ہی ایک چھینٹا دلہن سے نکھر گئے پل بھر مں میں سینکڑوں برسوں کی مل گئی صدیوں کے بگڑے ایک نظر میں مدھر گئے ڈھل پُر کر گئے فلاح سے جھولی مراد کی دامان آرزو کو سعادت سے بھر گئے پر تم یونہی پڑے رہے غفلت میں خواب کی دیکھا نہ آنکھ کھول کے ساتھی کدھر گئے صد حیف ایسے وقت کو ہاتھوں سے کھودیا واحسرتا کہ جیتے ہی جی تم تو مر گئے سونگھی نہ ہوئے خوش نہ ہوئی دی گل نصیب افسوس دن بہار کے یونہی گزر گئے 177 اخبار الفضل جلد 12-9 جون 1925 ء