کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 175

69 نہیں ممکن کہ میں زندہ رہوں تم سے جدا ہو کہ رہوں گا تیرے قدموں میں ہمیشہ ناک پا ہو کر جو اپنی جان سے بیزار ہو پہلے ہی اے جاناں تمھیں کیا فائدہ ہو گا بھلا اس پر خفا ہو کر ہمیشہ نفس امارہ کی باگیں تمام کر رکھیں گرائے گا یہ سرکش ورنہ تم کو سیخ پا ہو کر علاج عاشق مفکر نہیں ہے کوئی دنیا میں اُسے ہوگی اگر راحت میکسر تو کنا ہو کر دنیا خدا شاہد ہے اس کی راہ میں مرنے کی خواہش میں مرا ہر ذرہ تن جھک رہا ہے التجا ہو کر پھر ایسی کچھ نہیں پروا کہ دکھ ہو ا کہ راحت ہو رہو دل میں میرے گر عمر بھر تم مدعا ہو کر میری حالت پہ جاتا ہم آئے گا نہ کیا تم کو اکیلا چھوڑ دو گے مجھ کو کیا تم با وفا ہو کر کہاں ہیں مانی و بہت زار دیکھیں فن احمد کو دکھایا کیسی خوبی سے شیل مصطفے ہو کر 173 اخبار الفضل بلہ 12-9 دسمبر 1924 ء