کلام محمود مع فرہنگ — Page 165
65 ہے رضائے ذات باری اب رضائے قادیاں مدعائے حق تعالے دعائے قادیاں وہ ہے خوش اموال پر ، یہ طالب دیدار ہے بادشاہوں سے بھی افضل ہے گدائے قادیاں گر نہیں عرش معلی سے یہ ٹکراتی تو پھر سب جہاں میں گونجتی ہے کیوں صدائے قادیاں دعوی طاقت بھی ہو گا ادعائے پیار بھی تم نہ دیکھو گے کہیں لیکن وفائے قادیاں میرے پیارے دوستو تم دم نہ لینا جب تلک ساری دنیا میں نہ لہرائے ہوائے قادیاں بن کے سُورج ہے چمکتا آسماں پر روز و شب کیا عجب معجزہ نما ہے رہنمائے قادیاں غیر کا افسون اس پر چل نہیں سکتا کبھی لے اڑی ہو جس کا دل زُلف دوتائے قادیاں 164