کلام محمود مع فرہنگ — Page 94
بنائیں دل کو گلزار حقیقت لگائیں شاخ زهد و ارتقا کی شفا ہوں سر مریض رُوح کی ہم دوا بن جائیں درد لا دوا کی نہ زور ونفسلم کے خوگر ہوں یارب نہ عادت ہم میں ہو جور و جفا کی مجنت تیری دل میں جاگزیں ہو لگی ہو تو ہمیں یاد خدا کی ہمارے کام سب تیرے لیے ہوں اطاعت ہو غرض ہر دعا کی رَسُولُ اللہ ہمارے پیشوا ہوں ملے توفیق اُن کی اقتدا کی خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَوْلَى الْإِمَانِي الہی تو ہمارا پانیاں ہو ہمیں ہر وقت تو راحت رساں ہو تیرے بن زندگی کا کچھ نہیں تکلف ہمارے ساتھ پیارے ہر زماں ہو مصیبت میں ہمارا ہو مددگار ہمارے دردِ دل کا راز داں ہو ہمیں اپنے لیے مخصوص کر لے ہمارے دل میں آگرہ میہاں ہو تجھے جس راہ سے لوگوں نے پایا وہ راز معرفت ہم پر عیاں ہو ہماری موت ہے فرقت میں تیری ہمیشہ ہم پر تو جلوہ گناں ہو پہ 94