کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 87

نہیں یہ ہوش کہ خود ان کے گھر میں رہتا ہوں یہ کٹ لگی ہے کہ وہ میرے گھر پہ آئیں گے کب یہ میں نے مانا کہ ہے اُن کی ذات بے پایاں مگر وہ چہرہ زیبا مجھے دکھائیں گے کب مُمِينت بن چکے معنی نہیں گے کب میرے وہ مجھ کو مار تو بیٹھے ہیں اب جلائیں گے کب نگاہ چہرۂ جاناں پہ جا پڑی جن کی پھر اور لوگوں کے انداز ان کو بھائیں گے کب جو خود ہوں نور جنھیں نور سے محبت ہو غریق بحر ضلاکت سے دل بہلائیں گے کب ابھی آپ کی درگہ سے گر پھرا خالی تو پھر جو دشمن جاں ہیں وہ منہ لگائیں گے کب سُنا ہے خواب میں ممکن ہے رویت جاناں اخبار بدر جلد 9 - 9 جون 1910ء میں منتظر ہوں کہ وہ اب مجھے سلائیں گے کب 87