کلام محمود مع فرہنگ — Page 82
35 دل پھٹا جاتا ہے مثل ماہی بے آب کیوں ہو رہا ہوں کس کے پیچھے اس قدر بے تاب کیوں خالق اسباب ہی جب ہو کسی پر خشمگیں پھر بھلا اس آدمی کا ساتھ دیں اسباب کیوں مجھ کو یہ سبھیں کہ ہوں الفت میں مرفوع القلم میرے پیچھے پڑ رہے ہیں سب مرے کباب کیوں جب کلید معرفت ہاتھوں میں میرے آگئی تیرے العاموں کا مجھے پر بند ہے پھر باب کیوں اس میں ہوتی ہے مجھے دید رخ جاناں نصیب میری بیداری سے بڑھ کر ہو نہ میرا خواب کیوں أنتِ احمد نے چھوڑی ہے صراط مستقیم کیوں نہ گھبراؤں نہ کھاؤں دل میں پیچ و تاب کیوں جب کہ وہ یار یگانہ ہر گھڑی مجھے کو بلائے پھر بتاؤ تو کہ آئے میرے دل کو تاب کیوں الله 82