کلام محمود مع فرہنگ — Page 81
34 یہیں سے اگلا جہاں بھی دکھا دیا مجھ کو ہے ساغر کئے اگفت پلا دیا مجھ کو بتاؤں کیا کہ میخانے کیا دیا مجھ کو میں اکرم خاکی تھا ناں بنا دیا مجھ کو کسی کی موت نے سب کچھ بھلا دیا مجھ کو اس ایک چوٹ نے ہی سٹپٹا دیا مجھ کو کسی نے ثانی شیطاں بنا دیا مجھ کو کسی نے لے کے فرشتہ بنا دیا مجھ کو نہ اس کے بعض نے پیسے بٹا دیا مجھ کو نہ اس کے پیار نے آگے بڑھا دیا مجھ کو یہ دونوں میری حقیقت سے دُور ہیں محمود خُدا نے جو تھا بنانا بنا دیا مجھ کو کبھی جو طالب دید رخ نگار ہوا تو آئینہ میں مرامنہ دکھا دیا مجھ کو جفائے اہل جہاں کا ہوا جومیں شاکی تھپک کے گود میں اپنی سلا دیا مجھ کو جہاں سند کا گزر ہے نہ دخل بکرہیں ہے ہے ایسے ملک کا وارث بنا دیا مجھ کو مرے تو دل میں تھا کہ بڑھ کر نثار ہوجاؤں پر اس کے تیز نگہ نے ڈرا دیا مجھ کو مرا قدم تھا کبھی عرش پر نظر آتا اٹھی خاک میں کس نے ملا دیا مجھ کو غم جماعت احمد نہیں سہا جاتا یہ آگ وہ ہے کہ جس نے جلا دیا مجھ کو اخبار بدر جلد 8-16 ستمبر 1909ء 81