کلام محمود مع فرہنگ — Page 72
28 آؤ ار محمود ذرا حال پریشاں کردیں اور اس پردے میں مومن کوپیشیاں کر دیں خنجر ناز پہ ہم جان کو قرباں کر دیں اور لوگوں کے لیے راستہ آساں کر دیں کھینچ کر پردہ رُخ یار کو عریاں کر دیں وہ ہمیں کرتے ہیں ہم ان کو پریشاں کر دیں وہ کہیں ہم کہ گداگر کوٹ کینہاں کر دیں وہ کریں کام کہ شیطان کو مسلماں کر دیں پہلے ان آرزوؤں کا کوئی ساماں کر دیں دل میں پھر اس شہر خوبان کو مہماں کر دیں ایک ہی وقت میں چھپتے نہیں سورج اور چاند یا تو رخسار کو یا ابڑو کو مھریاں کر دیں وقت آج بے طرح چڑھی آتی ہے لعل لب پر ان کو کہہ دو کہ وہ زلفوں کو پریشاں کر دیں آدمی ہو کے تڑپتا ہوں جیگوروں کی طرح کبھی بے پردہ اگر وہ رخ تا ہاں کر دیں ایک دفعہ دیکھ چکے موسی تو پردہ کیسا ان سے کہہ دو کہ وہ اب چہرہ کو عریاں کر دیں ول میں آتا ہے کہ دل بیچ دیں دلدار کے ہاتھ اور پھر جان کو ہم ہدیۂ جاناں کر دیں وہ کریں دم کہ مسیحا کو بھی حیرت ہو جائے شیر قالیں کو بھی ہم شیر ئینستاں کر دیں 72 12 اخبار بدر جلد 8 29 اپریل 1909ء