کلام محمود مع فرہنگ — Page 66
پھر تم اُٹھاؤ رنج وتعب دیں کے واسطے قربان را و دین محمد میں جہاں کرو راه دین پھر اپنے ساتھ اور خلائق کو لو ملا نا مہربان جو ہیں اُنھیں مہرباں کرد پھر دشمنوں کو حلقہ الفت میں باندھ لو جو تم سے لڑ ہے ہیں انہیں ہم زباں کرو سینہ سے اپنے پھر اسی مکہ رُو کو لونگا پھر دل میں اپنے یاد خدا میہاں کرو پھر اس پر اپنے حال زکوں کو عیاں کرو پھر اس کے آگے نالہ و آہ و فغاں کرو ہاں پھر اسی صنم سے تعلق بڑھاؤ تم پھر کاروان دل کو اُدھری کہاں کرو پھر راتیں کاٹو جاگ کے یاد حبیب میں پھر آنسوؤں کا آنکھ سے دریا رواں کرو پھر اس کی بیٹی بیٹی صداوں کو تم شنو پھر اپنے دل کو افضل سے تم شادماں کرو ہاں ہاں اسی جیب سے پھر دل لگاؤ تم پھر منعمین لوگوں کے انعام پاؤ تم رسالہ تشحید الاذہان - ماہ فروری 1909 ء 66 99