کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 63

25 کیا جانیے کہ دل کو میرے آج کیا ہوا کسی بات کا ہے اس کو یہ دھر کالگا ہوا کیوں اس قدر یہ رنج ومصیبت میں چور ہے کیوں اس سے من و عیش ہے بالکل چھٹا ہوا اس یہ چوہے اس منہ دہ جوش اور خروش کہاں اب چلے گئے رہتا ہے اس قدر یہ بھلا کیوں دیا ہوا خالی ہے فرحت اور مسرت سے کیا سبب رہتا ہے آبلہ کی طرح کیوں بھرا ہوا چھائی ہوئی ہے اس پر بھلا مردنی یہ کیوں؟ جیسے کہ وقت صبح دیا ہو بجھا ہوا باد سموم نے اسے مُرجھا دیا ہے کیوں؟ رہتا ہے کوئلہ کی طرح کیوں بجھا ہوا کیوں اس کی آب و تاب وہ مٹی میں مل گئی ؟ جیسے ہو خاک میں کوئی موتی ملا ہوا کیا غم ہے اور درد ہے کس بات کا اسے کسی رنج اور عذاب میں ہے مبتلا ہوا مجھ پر بھی اس کی فکر میں گرم ہے حرام میں اس کے غم میں خود ہوں شکار کیا ہوا سب شعر و شاعری کے خیالات اُڑ گئے سب لطف ایک بات میں ہی کر کرا ہوا آہ و فغان کرتے ہوئے تھک گیا ہوں میں نالہ کہ جو رسا تھا میرا نا رسا ہوا مراک نے ساتھ چھوڑ دیا ایسے حال میں سمجھے تھے باوفا ہے وہ بے وفا ہوا اس درد و غم میں آنکھیں تلک دی گئیں جواب آنسو تلک بہانا انہیں ناروا ہوا 63 63