کلام محمود مع فرہنگ — Page 62
اپنی آنکھوں سے کئی بار ہے سورج کا بھی پنا اُلفت میں تیری میں نے پگھلتا دیکھا دیکھ کر اس کو ہیں دُنیا کے حسیں دیکھ لئے کیا بتاؤں کہ تیرے چہرہ میں ہے کیا دیکھا تیری غصہ بھری آنکھوں کو جو دیکھائیں نے خور کی آنکھ میں دوزخ کا نظارہ دیکھا ہلتے دیکھا جو کبھی تیرا ہلالِ اَبرو پارہ ہائے جگر شمس کو اُڑتا دیکھا ظلم کرتے ہو جو کہتے ہو شفق پھولی ہے تم نے عاشق کا ہے یہ خونِ تمنا دیکھا اخبار بدر جلد 8 - 25 فروری 1909 ء 62