کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 47

۔ذرا آنکھیں تو کھولو سونے والو! تمھارے سر پہ سُورج آگیا ہے زمین و آسماں ہیں اس پر شاہد جہاں میں ہر طرف پھیلی کہا ہے مرا ہر ذرہ ہو قربان احمد میرے دل کا ہی اک مدعا ہے اُسی کے عشق میں نکلے مری جاں کہ یاد یار میں بھی اک مزا ہے مجھے اس بات پر ہے مخمر محمود میرا معشوق محبوب خُدا ہے سُنو اے دُشمنان دین احمد نتیجہ بد زبانی کا بڑا ہے کساں کو اک نظر دیکھو خُدا را جو ہوتا ہے اُسی کو کاٹتا ہے نہیں لگتے کبھی کیکر کو انگور نہ حنظل میں کبھی فرما لگا ہے لگیں گوسینکڑوں تلوار کے زخم زباں کا ایک زخم ان سے بُرا ہے شیفا پا جاتے ہیں وہ رفتہ رفتہ کہ آخر ہر مرض کی اک دوا ہے خزاں آتی نہیں زخم زباں پر یہ رہتا آخری دم تک ہرا ہے ہمارے انبیاء کو گالیاں دو پھر اس کے ساتھ دھوی مصلح کا ہے! گریبانوں میں اپنے منہ تو ڈالو ذرا سوچو اگر کچھ بھی کیا ہے ہماری صلح تم سے ہو گی کیوں کر تمھارے دل میں جب یہ کچھ بھرا ہے محمد کو بڑا کہتے ہو تم لوگ بُرا ہماری جان و دل جس پر فدا ہے 47