کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page v of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page v

پیشگوئی بابت حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمد خلیفۃالمسیح الثانی میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔سو میں نے تیری تفرعات کو سنا۔اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بہائیہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو ( جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا۔سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔اے مظفر! تجھ پر سلام۔خدا نے یہ کہا۔تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں۔اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام خوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں۔جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفے ﷺ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کا راہ ظاہر ہو جائے۔سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملیگا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت ونسل ہوگا۔خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔اس کا نام عنموا ئیل اور بشیر بھی ہے۔اس کو مقدس روح دی گئی ہے۔اور وہ رجس سے پاک ہے وہ نو ر اللہ ہے مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔اس کے ساتھ فضل ہے۔جو اُسکے آنے کے ساتھ آئے گا۔وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔وہ دنیا میں آئیگا اور اپنے بیجی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔وہ کلمۃ اللہ ہے۔کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اُسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔وہ سخت ذہین و فہم ہوگا۔اور دل کا حلیم۔اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا۔اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا ( اسکے معنے سمجھ میں نہیں آئے ) دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔فرزند دلبند گرامی ارجمند۔مطهَرُ الْاَوَّلِ وَلَا خِرِ مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاء كَانَ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ - جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔نور آتا ہے نور۔جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے۔اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد جلد بڑھے گا۔اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا تذکرہ (ایڈیشن چهارم ) صفت تا صلا