کلام محمود مع فرہنگ — Page 394
یا د رکھنا کہ کبھی بھی نہیں پاتا عزت یار کی راہ میں جب تک کوئی بدنام نہ ہو بعض لوگ دینی کاموں میں حصہ لینے سے اس خیال سے ڈرتے ہیں کہ لوگ بڑا کہیں گے یا ہنسی کریں گے حالانکہ خدا تعالیٰ کی راہ میں بدنام ہونا ہی اصل عزت ہے۔اور کبھی کسی نے دینی عزت حاصل نہیں کی جب یک دُنیا میں پاگل اور قابل مہنسی نہیں سمجھا گیا۔کام مشکل ہے بہت منزل مقصود ہے دُور کے میرے اہل وفا شست کبھی کام نہ ہو گامزن ہوگئے رہ صدق و صفا پر گر تم کوئی مشکل نہ رہے گی جو سر انجام نہ ہو حشر کے روز نہ کرنا ہمیں رسواؤ خراب پیار و آموخته درس وفا خام نہ ہو یعنی جو کچھ دین کی محبت اور خدا تعالے سے عشق کے متعلق ہم سے سیکھ چکے ہو اس کو خوب یاد کرو۔ایسا نہ ہو کہ یہ سبق کچار ہے اور قیامت کے دن کنانہ سکو اور ہمیں جنہیں اس سبق کے پڑھانے کا کام سپرد کیا ہے شرمندگی اُٹھانی پڑے۔دوسروں کے شاگرد فرفرسنا جاویں اور تم یوں ہی رہ جاؤ۔والسلام مع الاکرام۔ہم تو جس طرح بنے کام کیے جاتے ہیں آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بد نام نہ ہو میری تو حق میں تمھارے یہ دُعا ہے پیار و سریہ اللہ کا سایہ رہے ناکام نہ ہو ظلمت رنج و غم و درد سے محفوظ رہو مہر انوار درخشندہ رہے شام نہ ہو خاکسار مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی اوج الہدی۔انوار العلوم جلد صفحات 189 تا 194 387