کلام محمود مع فرہنگ — Page 364
202 پڑے سو رہے ہیں جگا دے ہیں کرے جا رہے ہیں جلا دے ہمیں ارادت کی راہیں دکھا دے ہمیں محبت کی گھاتیں سکھا دے ہمیں جو پیاروں کے کانوں میں کہتے ہیں لوگ دہ میٹھی سی باتیں سُنا دے ہمیں دہ کثرت پر اپنی ہیں رکھتے گھمنڈ تو اپنے کرم سے بڑھا دے ہیں ہیں رو رو کے آنکھیں بھی جاتی ہیں مری جان اب تو ہنسا دے ہمیں ( ناصر آبادی سندھ) اخبار الفضل جلد 8 5 ستمبر 1954 ء لاہور پاکستان 203 عشق خُدا کی کے سے بھرا جام لائے ہیں ہم مصطفے کے ہاتھ پہ اسلام لائے ہیں پہ عاشق بھی گھر سے نکلے ہیں جاں دینے کے لیے تشریف آج وہ بھی سیر بام لائے ہیں غیر کو دکھا کے ہمیں قتل کیوں کرو ہم کب زباں پر شکوہ سر عام لائے ہیں ہم اپنے دل کا خُون اُنھیں پیش کرتے ہیں گل رو کے واسطے مئے گل نام لائے ہیں دُنیا میں اس کے عشق کا چرچا ہے چار سُو تحفہ کے طور پر دلِ بد نام لائے ہیں عشق قرآں سے ہم نے سیکھی ہے تدبیر بے خطا صید نما کے واسطے اک دام لائے ہیں د کنجے جی (سندھ) اور ربوہ کے سفر کے دوران) اخبار الفضل جلد 8- 12 ستمبر 1954 ء لاہور پاکستان 359