کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 363

200 ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی راہت لا ہو راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو میٹ جاؤں کہیں تو اس کی پروا نہیں ہے کچھ بھی میری فنا سے حاصل گردین کو بقا ہو سینہ میں جوش غیرت اور آنکھ میں حیا ہو کب پر ہو ذکر تیرا دل میں تری وفا ہو شیطان کی حکومت مٹ جائے اس جہاں سے مارکم تمام دنیا پر میرا مصطفے ہو محمود عمر میری کٹ جائے کاش یونہی ہو رُوح میری سنجیدہ میں سامنے خُدا از رساله الفرقان ماہ اپریل 1944ء ہو 201 نکال دے میرے دل سے خیال غیروں کا محبت پنی کے دل میں ڈال دے پیارے یہ گھر تو تو نے بنایا تھا اپنے رہنے کو بتوں کو کعبہ دل سے نکال دے پیارے اچھل چکا ہے بہت نام لات و غترکی کا اب اپنا نام جہاں میں اُچھال دے پیارے حیات بخش وُہ جس پر فنا نہ آئے کبھی نہ ہو سکے جو تبہ ایسا مال دے پیارے بجھا دے آگ میرے دل کی آب رحمت سے مصائب اور مکارہ کو ٹال دے پیارے اخبار الفضل جلد 32- 17 مئی 1944 ء 358