کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 331

تیرے بندے اسے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں شمع نور آسمانی کو دیا جس نے بجھا باب وحی حق کا جس نے بند بانگل کر دیا جس نے فضل ایزدی کی راہیں سب بند دود کیں ہے اسی ملا کو مسلم نے بنایا راہ نما تیرے بندے اسے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں تصویر کا دوسرا رخ دہ بھی ہیں کچھ جو کہ تیرے عشق سے مخمور ہیں دنیوی آلائشوں سے پاک ہیں اور دُور ہیں دنیاوالوں نے انھیں بے گھر کیا بے در کیا پھر بھی ان کے قلب حب خلق سے معمور ہیں تیرے بندے اسے خُدا رسیح ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں ڈھانپتے رہتے ہیں ہر دم دوسروں کے عیب کو ہمیں چھپاتے رہتے وہ دنیا جہاں کے عیب کو ان کا شیوہ نیک کلنی نیک خواہی ہے سدا آنے دیتے ہی نہیں دل میں کبھی بھی ریب کو تیرے بندے اسے خدا ہیچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں روز و شب قرآن میں فکر و تد بر مشغله اُن پر دروازہ کھلا ہے دین کے اسرار کا تجھ میں اُن میں غیریت کوئی نظر آتی نہیں ہیں اگر وہ مال تیرا تو بھی ان کا ہے صلہ تیرے بندے اسے خدا ہیچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں 329