کلام محمود مع فرہنگ — Page 325
178 دلبر کے در پہ جیسے ہو جانا ہی چاہیے گر ہو سکے تو حال سُنانا ہی چاہیئے بے کار رکھ کے سینہ میں دل کیا کروں گائیں آخر کسی کے کام تو آنا ہی چاہیئے رنگ دنا دکھاتے ہیں ادنی و خوش بھی غم دوستوں کا کچھ تمھیں کھانا ہی چاہیئے اس سید روٹی پر شوق ملاقات ہے عبث اس ماہ رد کا رنگ چڑھانا ہی چاہیئے بے عیب چیز لیتے ہیں تحفہ میں خوبرو دارغ دل انیم مٹانا ہی چاہیئے شر و فسادِ دہر بڑھا جا رہا ہے آج اس کے مٹانے کو کوئی دانا ہی چاہیئے ساتھی بڑھیں گے تب کہ بڑھاؤ گے دوستی دل غیر کا بھی تم کو نبھانا ہی چاہیئے تغییر کعبہ کے لیے کوئی جگہ تو ہو پہلے صنم کدہ کو گرانا ہی چاہیئے مستم رون مکاں کی ہوتی ہے اس کے مکین سے اس دلربا کو دل میں بسانا ہی چاہیئے دل ہے شکار حرص و ہوا و ہوس ہوا پنجہ سے ان کے اس کو چھڑانا ہی چاہیئے اگست 1954 - ناصر آباد سندھ) ۶۶ - 323 اخبار الفضل جلد 8 لاہور پاکستان 12 اکتوبر 1954ء