کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 315

170 لگ رہی ہے جہان بھر میں آگ گھر میں ہے اگ رہ گزر میں آگ بھائی بھائی کی جان کا بیدی کب یہ ہے صلح اور کر میں آگ دشمنی کی چلی ہوئی ہے کرو بات بیٹھی ہے پر نظر میں آگ کیس پر انسان انتباز کرے زور میں آگ ہے تو زر میں آگ میٹی پانی کا ایک پتلا تھا بھر گئی کیسے پھر بشر میں آگ ابنِ آدم کو لگ گیا کیا روگ آگ ہے دل میں اور سر میں آگ کیسے نکلی ہے نور سے یہ نار باپ میں نور تھا پسر میں آگ کھا رہی ہے جیم دنیا کو شہر میں آگ ہے نگر میں آگ اُن کو جنت سے واسطہ ہی کیا ہو گی جن کے بام و در میں آگ ودر ین نہ بدخواہ تو کسی کا بھی خیر میں پنج ہے تو شر میں آگ ابر رحمت خُدا ہی برسائے ہے بھڑک اُٹھی بحرو بر میں آگ 313 اخبار الفضل بلد 6 لاہور پاکستان 1اگست 1952ء