کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 314

169 کیا آپ ہی کو نیزہ چھونا نہیں آتا؟ یا مجھ کو ہی تکلیف میں رونا نہیں آتا حاصل ہو سکون چھوٹوں اگر دامن دلبر دامن کا مگر ہاتھ میں کونا نہیں آتا پھر جاؤں تو اُٹھتے ہوئے طوفانوں سے لیکن کشتی کو سمندر میں ڈبونا نہیں آتا جو کام کا تھا وقت وہ رو رو کے گزارا اب رونے کا ہے وقت تو رونا نہیں آتا کہتے ہیں کہ مٹ جاتا ہے دھونے سے ہر اک داغ اے وائے مجھے داغ کا دھونا نہیں آتا آجاتے ہو تم یاد تو لگتا ہوں تڑپنے ورنہ کسے آرام سے سونا نہیں آتا دامن بھی ہے غفراں کا سمندر بھی ہے موجود دامن کو سمندر میں ڈبونا نہیں آتا موتی تو ہیں پر ان کو پرونا نہیں آتا آنسو تو ہیں آنکھوں میں پر رونا نہیں آتا یکس لاکھ جتن کرتا ہوں دل دینے کی خاطر کچہ اُن کی نگہ میں یہ کھلونا نہیں آتا کیا فائدہ اس در پہ تجھے جانے کا اے دل دامن کو جو اشکوں سے بھگونا نہیں آتا در کس پرتے یہ امید رکھوں اُس سے جزا کی کاٹوں گائیں کیا خاک کہ ہونا نہیں آتا 312 اخبار الفضل جلد 6 لاہور پاکستان 3 جنوری 1952 ء